Wednesday, November 19, 2014

کشتہ جات کی تیاری

کشتہ


کُشتہ (CARBONAS )فارسی زبان کا لفظ ہے جس کے معنی ’’مارا ہوا‘‘ ہے مگر طب کے شعبے میں کُشتہ اُس مخصوص مرکب کو کہتے ہیں جس میں ادویہ کو جلا کر چونا (کلس) کی طرح بنا لیا گیا ہو۔ کشتہ جات دراصل کار بوناس (Carbonas ) ہوتے ہیں جو بعض طبّی اغراض کے کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں تاکہ اُن کے استعمال سے مریض جلد صحت یاب ہو سکے۔کشتے سے بنائی گئی ادویات کو ادویۂ محرَّقہ و مُکلَّسہ کہا جاتا ہے[1]۔مختلف دھاتوں جیسے سونے اور چاندی کے کشتے بھی بنائے جاتے ہیں۔ تابنے کا کشتہ استعمال میں بہت خطرناک ہوتا ہے۔ کشتہ سازی میں بروئے کار آنے والی دوائیں حرارت کے زیرِ اثر کیمیاوی اعمال سے متاثر ہو کر ایک نئی شکل اختیار کر لیتی ہیں جن سے بدنِ انسانی میں اُن کا انجذاب ممکن اور سہل ہو جاتا ہے اور خون میں شامل ہو کر اپنے افعال و اثرات مرتب کرتی ہیں جس سے بدن کی حرارتِ غریزی فعال و متحرک ہو جاتی ہے۔ نیز بنیادی شرح استحالہ B.M.R(Basal metabolic rate). بھی بڑھ جاتا ہے۔

فہرست

  [غائب کریں
  • 1 کشتوں کی اقسام
  • 2 تکلیس
  • 3 کشتہ کے فوائد
  • 4 کشتہ جات کی تیاری
  • 5 کشتہ جات
    • 5.1 کشتہ ابرک سفید
    • 5.2 کشتہ ابرک سیاہ
    • 5.3 کشتہ اُسْرُب (سیسہ)
    • 5.4 جزءِ خاص اُسْرُب (سیسہ)
    • 5.5 کشتۂ پھٹکری (یشب)
    • 5.6 کشتہ حجر الیہود
    • 5.7 کشتہ بیضۂ مرغ
    • 5.8 کشتہ خَبَثُ الحدیْد
    • 5.9 کشتہ خر مہرہ
    • 5.10 کشتۂ زمُرّد
    • 5.11 کشتۂ سم ّالفار
    • 5.12 کشتۂ سنگ جراحت
    • 5.13 کشتۂ صدفِ مرواریدی
    • 5.14 کشتۂ طِل
    • 5.15 کشتۂ طوطیا
    • 5.16 کشتۂ عقیق
    • 5.17 کشتۂ فولاد
    • 5.18 کشتۂ فولاد سونے چاندی وال
    • 5.19 کشتہ قرن الایِّل
    • 5.20 کشتہ قلعی
    • 5.21 کشتۂ گئو دَنتی (ہڑتال طبقی)
    • 5.22 کشتۂ مثلّث
    • 5.23 کشتۂ مرجان سادہ
    • 5.24 کشتہ مرجان جواہر وال
    • 5.25 کشتۂ مرگانگ
    • 5.26 کشتہ ہڑتال طبقی
    • 5.27 کشتہ ہیرا کسیس(زاج اخضر)
  • 6 حوالہ جات

کشتوں کی اقسام

دھاتوں کے کشتے دو طرح کے ہوتے ہیں۔
  1. آکسائیڈس (Oxides )
  2. کاربونیٹس (Carbonates )
آکسائیڈس اُن کشتوں کو کہتے ہیں جن کو آکسیجن گیس کی موجودگی میں کشتہ کیا جاتا ہے۔ اِس قسم کے کشتوں کے ذرّات سخت ہوتے ہیں۔ اُن کی رنگت صاف اور شفّاف نہیں ہوتی۔ البتہ یہ کافی مفید ہوتے ہیں لیکن کار بونیٹس (Carbonates ) قسم کے کشتوں کی رنگت صاف ہوتی ہے۔

تکلیس]

تکلیس کا مقصد یا تو دوا کی حِدّت کو توڑنا یا اُس کو لطیف بنانا ہوتا ہے اور اِس مقصد کے لئے زرنیخ و زاج اخضر جیسی چیزوں کو مکلّس کرتے ہیں ، جبکہ نمک اور سرطان کو لطیف بنانے کے لئے محرّق کیا جاتا ہے، احجار و اصداف کو مکلّس کر کے اُن کی حِدّت بڑھائی جاتی ہے۔

کشتہ کے فوائد

کشتہ کے فوائد کے سلسلہ میں یہ امر خاص طور پر ملحوظ رہنا چاہیے کہ اختلاف ترکیب اور اختلاف بدرقہ کی وجہ سے ایک ہی دواء کے کشتہ سے مختلف خواص حاصل ہوتے ہیں۔ چنانچہ مطلوبہ افعال کی خاطر مختلف ترکیبوں سے کسی دواء کا کشتہ تیار کیا جاتا ہے اور اُسی کی مناسبت سے بدرقہ بھی استعمال ہوتا ہے۔ مُکلَّس دواء اپنی خاص تاثیر کے علاوہ اُس بوٹی یا دواء کی تاثیر بھی رکھتی ہے جس میں اُسے کشتہ کیا گیا ہے۔ مثلاً سنگِ جراحت بالخاصیت حابس دم و مدمِّل جراحات ہے۔ شیر خر میں کشتہ شدہ دافع حمیٰ دِق ، گلو میں کشتہ شدہ دافع اقسام حمیٰ ، شبِّ یمانی میں کشتہ شدہ دافع ناصور ہے۔

کشتہ جات کی تیاری]

کشتہ جات کی تیاری نہایت خطرناک عمل ہے، کسی ماہر حکیم یا استاد کی نگرانی کے بغیرکشتہ تیار نہیں کرنا چاہیےکہ یہ خطرناک بھی ہو سکتا ہے۔

کشتہ جات

کشتہ ابرک سفید

افعال و خواص اور محل استعمال سعال، ضیق النفس اور بخار میں خاص طور پر مستعمل ہے۔ جریان، ضعف باہ اور سیلان الرَّحم میں فائدہ دیتا ہے۔ دیگر اجزاء مع طریقۂ تیاری ابرک سفید، محلوب ۱۰۰ گرام کو مِٹی کے کوزہ میں رکھیں اور اُس میں لعاب گھیکوار اِتنا داخل کریں کہ ابرک کے اوراق تر بہ تر ہو جائیں۔ پھر گلِ حکمت کر کے ۱۰۔۱۲ اُپلوں کی آنچ دیں۔ اِس سے ابرک کے اوراق نرم ہو جائیں گے۔ اُِس کے بعد شورہ قلمی، ابرک کے وزن سے ڈیڑھ گنا زیادہ لے کر اِتنے پانی میں حل کریں جس میں ابرک کے اوراق تر ہو جائیں۔ پھر شورہ کے اِس محلول میں ابرک کے اوراق تر کر کے مٹی کے کوزہ میں گلِ حکمت کریں اور ۱۰۔۱۲ بارہ کلو اُپلوں کی آنچ دیں۔ ابرک کا سفید کشتہ تیار ہو جائے گا اور چمک باقی نہیں رہے گی۔اِس کو باریک پیس لیں اور صاف پانی اِتنا ڈالیں کہ کشتہ سے چار انگل اوپر رہے۔ دو تین گھنٹہ بعد پانی نتھار لیں۔ اِسی طرح چند باریہ عمل کریں تاکہ ابرک میں شورہ کی نمکینی باقی نہ رہے۔ اِس کے بعد استعمال میں لائیں۔ [

کشتہ ابرک سیاہ]

افعال و خواص اور محل استعمال کشتہ ابرک سفید کی بہ نسبت کشتہ ابرک سیاہ زیادہ قوی الاثر ہوتا ہے۔ حمٰی مزمِن اور حمٰی وبائی میں خاص طور پر نافع ہے۔ دیگر اجزاء مع طریقۂ تیاری ابرک سیاہ محلوب ۱۰ گرام، دہی ۳۰ گرام کے ساتھ کھرل کر کے قرص بنائیں اور گلِ حکمت کر کے دو کلو اُپلوں کی آنچ دیں۔ اِسی طرح اکیس مرتبہ یہ عمل کریں۔ کشتہ تیار ہو جائے گا۔ مقدار خوراک ۱۲۵ ملی گرام تا ۲۵۰ ملی گرام تک۔

کشتہ اُسْرُب (سیسہ)

وجہ تسمیہ اپنے جزءِ خاص سیسہ(اُسْرُب) کے نام سے موسوم ہے۔ افعال و خواص اور محل استعمال سُرعتِ انزال، جریان اور کثرتِ احتلام میں مفید ہے۔

جزءِ خاص اُسْرُب (سیسہ)

دیگر اجزاء مع طریقۂ تیاری سیسہ بقدر ضرورت لے کر لوہے کی کڑھائی میں پگھلائیں اور تھوڑی تھوڑی کھانڈ ڈال کر سہجنہ کی لکڑی سے چلاتے رہیں۔ یہاں تک کہ وہ خاکستر ہو جائے۔ سرد ہونے پر چھان لیں اور محفوظ کر لیں۔ مقدار خوراک ۳۰ ملی گرام ہمراہ مکھن یا معجون آرد خرما ۱۰ گرام۔

کشتۂ پھٹکری (یشب)

وجہ تسمیہ یشب کی شمولیت کی وجہ سے اِس کا نام کشتۂ یشب /پھٹکری رکھا گیا۔ افعال خواص اور محل استعمال حمی ملیریا ،نزلہ و زکام اور ویروسی بخاروں میں مفید ہے۔ دیگر اجزاء مع طریقۂ تیاری یشب ۲۰ گرام، شیرِ مدار ۲۰ ملی لیٹر، آبِ برگِ دھتورا ۶۰ ملی لیٹر، شرابِ برانڈی ۵۰ ملی لیٹر لے کر اوّلاً یشب کو ایک دِن رات کے لئے شیرِ مدار میں کھرل کر کے خشک کر لیں۔ دوسرے دِن آبِ برگ، دھتورا میں کھرل کر کے خشک کریں۔ پھر تیسرے شرابِ برانڈی میں کھرل کر کے اقراص بنائیں اور کوزۂ گلی میں رکھ کر احتیاط سے بند کر کے گلِ حکمت کریں اور دس کلو اُپلوں کی آنچ دے کعر کشتہ تیار کریں۔ کوزہ کے سرد ہو جانے کے بعد باہر نکال کر اُسے باریک پیس لیں اور استعمال میں لائیں۔ مقدارِ خوراک ۱۲۵ ملی کسی مناسب بدرقہ کے ساتھ۔

کشتہ حجر الیہود

افعال و خواص اور محل استعمال کشتہ حجر الیہود امراض مجاری البول کے لئے مخصوص ہے۔ یہ گردہ و مثانہ کی پتھری توڑتا اور ریگ(باریک پتھری) کو خارج کر کے اُس کی آئندہ پیدائش کوروکتا ہے۔ احتباس بول، سوزاک اور قرحۂ احلیل میں نافع ہے۔
دیگر اجزاء مع طریقۂ تیاری حجر الیہود ۲۰ گرام اورشورہ قلمی ۵۰ گرام لے کردونوں کو تین گھنٹے تک آبِ مولی میں کھرل کر کے قرص بنائیں۔ پھر خشک کر کے مٹی کے کوزہ میں گل حکمت کر کے دس کلو اُپلوں کی آنچ دیں۔ اِسی طرح یہ عمل چار مرتبہ کریں۔ یعنی ہر بار شورہ قلمی ۵۰ گرام اِضافہ کر کے آبِ مولی میں کھرل کرنے کے بعد اِسی قدر آنچ دیتے رہیں اور پیس کر رکھ کر لیں۔ پھر استعمال میں لائیں۔
مقدار خوراک ۵۰۰ ملی گرام تا ایک گرام مناسب بدرقہ کے ساتھ۔

کشتہ بیضۂ مرغ

افعال و خواص اور محل استعمال ضیق النفس، سعال مزمن، نفث الدم، نزف الدم، سل ودِق، اسہال کبدی، سوزاک، جریان، سیلان الرَّحم، کثرت طمث، ضعف باہ، سرعتِ انزال، سَلَسُ البول میں مفید ہے۔ نافع و دافع جریان اور رمجفَّففِ رطوباتِ فاضلہ ہے۔
دیگر اجزاء مع طریقۂ تیاری پوست بیضۂ مرغ کو بارہ گھنٹہ شیر مدار میں کھرل کر کے قرص بنائیں اور خشک ہونے کے بعد مٹی کے کوزہ میں گلِ حکمت کر کے پندرہ کلو اُپلوں کی آنچ دیں۔ اِسی طرح نو مرتبہ کھرل کریں اور آنچ دیں۔ نہایت عمدہ کشتہ تیار ہوگا۔
مقدار خوراک ۱۲۵ ملی گرام تا ۲۵۰ ملی گرام۔ نوٹ:بیضۂ مرغ کو مصفیٰ کرنے کی ترکیب یہ ہے کہ انڈے کا چھلکانمک کے پانی میں بارہ گھنٹے تر رکھیں اور پھر اُس کے اندرونی پردے کو نہایت احتیاط سے دور کریں۔ بیضۂ مرغ مصفیٰ ہو جائے گا۔

کشتہ خَبَثُ الحدیْد]

افعال و خواص اور محل استعمال اِس کو کشتہ فولاد کا نعم البدل تسلیم کیا گیا ہے۔ خَبَثُ الحدید بہت پرانا ہو، وہ سب سے بہتر مانا جاتا ہے،چنانچہ تکلیس کے لئے خَبَثُ الحدید صد سالہ استعمال کیا جاتا ہے۔ ضعف معدہ، ضعف جگر، سوء القنیہ، استسقاء عِظَم طحال، یرقان، ضعف باہ اور سرعت انزال میں مفید ہے۔ چہرہ کو سُرخ اور بارونق بناتا ہے۔نیز مقوی عام ہے۔ چونکہ اِس میں قوت قابضہ زیادہ ہے، اِس لئے اِس کو جریان ، سلس البول ، زلق المعدہ و امعاء میں بھی مفید پایا گیا ہے۔
دیگر اجزاء مع طریقۂ تیاری خبث الحدید کہنہ ڈھائی سو گرام کوخوب باریک کر کے پانی میں دھوئیں ، پھر اُس کو بول مادہ گاؤ میں تر بہ تر کر کے سحق کریں اور قرص بناکر مٹی کے کوزہ میں گل حکمت کر کے ۶ کلو اُپلوں کی آنچ دیں۔ اِسی طرح یہ عمل ۳ بار کریں۔ پھر تین دفعہ سرکہ تُرش میں کھرل کر کے آنچ دیں۔ پھر تین بار آبِ لیموں میں کھرل کر کے ، پھر تین بار آبِ جغرات (دہی کا پانی) میں کھرل کر کے بدستور آگ دیتے رہیں۔ پھر لعاب گھی کوار میں بار بار کھرل کر کے اُس وقت تک آنچ دیتے رہیں جب تک کہ کشتہ سازی کا عمل مکمّل نہ ہو جائے۔
مقدار خوراک ۱۲۵ ملی گرام صبح و شام مکھن کے ساتھ استعمال کرائیں۔

کشتہ خر مہرہ]

افعال و خواص اور محل استعمال حمیّاتِ مرکبہ، فساد خون، سوزاکِ مزمن، آتشک، ضعف معدہ، اسہالِ مزمن، قروح وبثوراور ہر قسم کے جریان الدم میں مفید ہے۔
دیگر اجزاء مع طریقۂ تیاری خر مہرہ (کَوڑِی) کومٹی کے کوزہ میں گلِ حکمت کر کے بیس کلو اُپلوں کی آگ میں کشتہ بنائیں۔
مقدار خوراک ۵۰۰ ملی گرام تا ایک گرام تک شہد یا کسی مناسب بدرقہ میں ملا کر کھلائیں۔

کشتۂ زمُرّد]

افعال و خواص اور محل استعمال مفرّح و مقوی قلب، مقوی جگر و گردہ، دافع سلس البول و کثرت بول۔
دیگر اجزاء مع طریقۂ تیاری زمرد ۱۰ گرام کو عرق گلاب میں خوب کھرل کر کے ٹکیہ بنائیں اور مٹی کے کوزہ میں مغز گھی کوار کے درمیان رکھ کر ۲۰ کلو اُپلوں کی آنچ دیں۔ سرد ہونے پر استعمال کریں۔
مقدار خوراک ۳۰ تا ۶۰ ملی گرام۔

کشتۂ سم ّالفار

افعال و خواص اور محل استعمال ضعف باہ، آتشک، سوزاک، بواسیر، وجع مفاصل اور امراضِ باردہ بلغمیہ میں مفید ہے۔
دیگر اجزاء مع طریقۂ تیاری سم الفار ۱۰ گرام پھٹکری (مسحوق ) ۲۰ گرام کے درمیان مٹی کے کوزہ میں رکھ کر گلِ حکمت کر کے پانچ کلو اُپلوں کی آنچ دیں۔ شگفتہ ہونے پر پیس کر رکھیں۔
مقدار خوراک ۱۵ ملی گرام (ایک چاول) مناسب بدرقہ کے ہمراہ۔

کشتۂ سنگ جراحت

افعال و خواص اور محل استعمال حمیات مزمنہ، کثرتِ طمث، بواسیر دموی، سلس البول، جریان، سیلان سوزاک میں مفدو ہے۔
دیگر اجزاء مع طریقۂ تیاری سنگ جراحت ۲۵ گرام تین روز تک روغن کنجد میں تر رکھیں ، پھر نکال کر برگ پیپل سات عدد میں لپیٹ کر دو کلو اُپلوں کی آنچ دیں۔ شگفتہ ہو جائے گا، اِس کے بعد کشتہ سنگ جراحت کو چوتھائی حصہ دانہ اِلائچی کے ہمراہ پیس کر رکھیں اور استعمال مںن لائیں۔
مقدار خوراک ۱۲۵ تا ۵۰۰ ملی گرام۔
کشتۂ شنگرف افعال و خواص اور محل استعمال مقوی باہ، مقوی معدہ اور مقوی اعصاب ہے۔
طریقۂ تیاری کچلہ ۱۲۵ گرام کوباریک کوٹ کر شیر مدار ۲۵۰ ملی لیٹر میں کھرل کر کے نغدہ بنائیں اور شنگرف ۱۰ گرام کو نغدہ کے درمیان رکھ کر مٹی کے کوزہ میں گل حکمت کر کے پانچ کلو اُپلوں کی آنچ دیں۔ کشتہ تیار ہے۔
مقدار خوراک ۶۰ ملی گرام۔
کشتۂ صدف افعال و خواص اور محل استعمال کثرتِ طمث اور حمیّاتِ مزمنہ میں مفید ہے۔
دیگر اجزاء مع طریقۂ تیاری صدف کو مٹی کے کوزہ میں گلِ حکمت کر کے دس کلو اُپلوں کی آنچ دیں اور پیس کر محفوظ رکھیں اور استعمال میں لائیں۔
مقدار خوراک ۵۰۰ ملی گرام تا ایک گرام۔

کشتۂ صدفِ مرواریدی]

وجہ تسمیہ مختلف آبی جانوروں کا بیرونی پوست ہے جسے سیپ یا صدف کہتے ہیں۔ اِن میں سب سے بہتر قسم صدف مروارید ہے جو سفید براق موتی کے مانند ہوتا ہے۔ اِس کے بعد دوسرے اقسامِ صدف کا درجہ ہے۔
افعال و خواص اور محل استعمال حمیّاتِ مزمنہ، سعال مزمن، اسہال اور جریان الدم میں مفید ہے۔
دیگر اجزاء مع طریقۂ تیاری صدف کو مٹی کے کوزہ میں بند کر کے ۲۰ کلو اُپلوں کی آنچ دیں اور کشتہ ہو جانے پرپیس کر رکھیں۔
مقدار خوراک جریان الدم مثلاً کثرت طمث وغیرہ کے لئے ایک گرام صبح و شام ،حمیٰ مزمن کے لئے ایک گرام دِن میں تین بار۔

کشتۂ طِل

وجہ تسمیہ کشتۂ طِلاء سونے کے کشتہ کو کہتے ہیں۔ اِس کا جزءِ خاص سوناہونے کی وجہ سے یہ ’’کشتۂ طِلاء‘‘ کے نام سے موسوم ہے۔
افعال و خواص اور محل استعمال صداع مزمن، خفقان، مالیخولیا، ضیق النفس، سل و دِق اور ضعف باہ میں سریع الاثر ہے۔ بصارت اور عام بدن کی تقویت کے علاوہ حرارت غریزی کو بھی بڑھاتا ہے۔
دیگر اجزاء مع طریقۂ تیاری برادۂ طِلا خالص ۱۰ گرام، دو چند عرق گلاب سہ آتشہ، سنگ سماق کی کھرل میں تھوڑا تھوڑا ڈال کر باریک کھرل کریں۔ جب عرق جذب ہو جائے تواُس کی ٹکیہ بنا کر مٹی کے کوزہ میں گلِ حکمت کر کے سات کلو اُپلوں کی آنچ دیں۔ اِسی طرح کی پندرہ آنچوں میں کشتہ تیار ہو جائے گا۔
مقدار خوراک ۶۰ تا ۱۲۵ ملی گرام۔

کشتۂ طوطیا]

وجہ تسمیہ طوطیا اِس کا جزءِ خا ص ہے، اِسی نام سے اِسے موسوم کیا گیا۔
افعال و خواص اور محل استعمال مقوی اعصاب، دافع آتشک و سوزاک، مصفی خون، نافع بواسیر، مدمل قروح خبیثہ وعفنہ، دافع ناسور۔
دیگر اجزاء مع طریقۂ تیاری نیلا طوطیا دس۱۰ دس۱۰ گرام کی دو ۲ڈلیاں ۲۵۰ گرام ، پوست ریٹھا کے درمیان کوزۂ گِلی میں گل حکمت کر کے تین کلو اُپلوں کی آنچ دیں۔ پھر نکال کر پیس کر محفوظ کر لیں اور استعمال میں لائیں۔
مقدار خوراک ۱۲۵ ملی گرام۔آتشک و قروح خبیثہ کی صورت میں یہ کشتہ مکھن میں ملا کر کھلائیں۔ پیاس کے وقت روغنِ زرد(دیسی گھی) پلائیں۔ بارہ گھنٹہ سے پہلے پانی نہ دیں۔ تمام قروح خشک ہو جائیں گے۔

کشتۂ عقیق[ترمیم]

وجہ تسمیہ ظاہر ہے کہ عقیق کی شمولیت کی بناء پر یہ نام رکھا گیا۔
افعال و خواص اور محل استعمال مقوی قلب و اعضاء رئیسہ، دافع خفقان مالیخولیا، حابس الدم، مخرج سنگ گردہ و مثانہ، مقوی باہ، مغلظ منی، نافع سوزاک مزمن ، مدمل قروح مزمنہ۔
دیگر اجزاء مع طریقۂ تیاری عقیق ۱۰ گرام کے ٹکڑے کر کے گل نیلو فر اور بارتنگ تازہ کے نغدہ میں بند کر کے ۲۰ کلو اُپلوں کی آنچ دیں۔ چونکہ عقیق سخت پتھر ہے ، اِس لئے اِسے کشتہ کرنے سے پہلے خوب باریک پیسنا چاہیے۔ حتّیٰ کہ اِس میں کر کراہٹ باقی نہ رہے۔ اِس مقصد کے لئے اِس کو بار بار مناسب بوٹیوں کے پانی میں سحق کریں ، پھر کشتہ بنائیں۔ اگر کشتہ بننے میں کچھ کمی رہ جائے تو دو بارہ یہ عمل کریں۔ مکمّل کشتہ بن جانے پر ہی اس کو استعمال میں لائیں۔
مقدار خوراک ۱۲۵ تا ۲۵۰ ملی گرام۔

کشتۂ فولاد]

افعال و خواص اور محل استعمال امراضِ بارِدہ بلغمیہ دماغیہ کے لئے عجیب التاثیر ہے۔ ضعف معدہ، ضعف جگر، سؤ القنیہ، استسقاء، بواسیر، قولنج ریحی، جریان، سیلان الرحم اور سلس البول میں مفید ہے۔ تقویت باہ اور تقویت گردہ و مثانہ کے علاوہ ہر قسم کے اسہال میں فائدہ دیتا ہے۔ دمِ صالح پیدا کرتا ہے۔ بدن کو قوت دیتا اور حُمرۃ الدم کو بڑھاتا ہے۔ دیگر کشتوں کی طرح کشتہ فولاد میں بھی ترکیب تیاری کو بہت دخل ہے، حسبِ اختلافِ تراکیب اِس کی تاثیر میں فرق واقع ہوتا ہے۔ کشتوں کی عام شناخت کے مطابق اِس کی عمدگی کی بھی شناخت یہ ہے کہ پانی پر تیرنے لگے یا کم از کم پانی میں حل ہو جائے۔
دیگر اجزاء مع طریقۂ تیاری برادہ فولاد ۵۰ گرام، پارہ ۳ گرام ، لعاب گھی کوار میں کھرل کر کے دو کلو اُپلوں کی آنچ دیں۔ اِسی طرح چار مرتبہ کریں اور ہر مرتبہ ۳ گرام پارہ کااِضافہ کریں۔ پھر ہڑتال طبقی ۳۔۳ گرام کے ساتھ شیر مدار میں کھرل کر کے پھر سم الفار ۳۔۳ گرام کے ساتھ شیر مدار میں کھرل کر کے پھر شنگرف رومی ۳۔۳ گرام کے ساتھ شیر مدار میں کھرل کر کے چار مرتبہ آنچ دیں۔ اِس طرح کل ۱۶ آنچیں دیں ،کشتہ تیار ہو جائے گا۔
مقدار خوراک ۱۲۵ تا ۲۵۰ ملی گرام ، مناسب بدرقہ کے ساتھ مثلاً استسقا کے لئے شیر شتر کے ساتھ، تقویت باہ کے لئے مکھن کے ساتھ، بواسیر کے لئے رسوت کے ساتھ اور اسہالِ مزمنہ کے لئے کتیرا ایک گرام کے ساتھ استعمال میں لائیں۔

کشتۂ فولاد سونے چاندی وال

افعال و خواص اور محل استعمال غایت درجہ مقوی باہ۔
دیگر اجزاء مع طریقۂ تیاری کشتہ نقرہ ۵ گرام، کشتہ طِلا ۱۰ گرام ،کشتہ تانبہ ۲۰ گرام ،پارہ ۴۰ گرام، گندھک آملہ سار ۸۰ گرام ،کشتہ فولاد ۱۶۰ گرام سب کو ملا کر ۱۴ گھنٹے کھرل کریں اور آتشی شیشی میں رکھ کر گل حکمت کر کے شیشی کا منہ بند کر دیں۔ پھر ایک ہنڈیا میں دو کلو نمک سیندھا کے درمیان اِس شیشی کو اِس طرح رکھیں کہ شیشی کا منہ ہنڈیا کے برابر رہے۔ ۲۴ گھنٹے تک آنچ دیں۔ سرد ہونے پر نکال کر کھرل میں ڈالیں اور شیر مدار میں کھرل کریں۔ جب خشک ہو جائے تو اسگندھ کے جوشاندہ میں کھرل کریں۔ اِسی طرح موصلی، تالمکھانہ اور ستاور کے جوشاندہ میں علیحدہ علیحدہ کھرل کرتے رہیں (شیر مدار یا دوا کا جوشاندہ اِتنی مقدار میں ہو کہ کھرل کی جانے والی دوا تر ہو جائے )۔
مقدار خوراک ۳۰ سے ۶۰ ملی گرام۔

کشتہ قرن الایِّل[

وجہ تسمیہ بارہ سنگھے کے سینگوں سے تیار کیا جاتا ہے جس کو عربی میں ’’ قرن الایّل‘‘ کہتے ہیں ، اِسی مناسبت سے یہ نام رکھا گیا۔
افعال و خواص اور محل استعمال ضیق النفس، سعال بلغمی ، ذات الجنب، وجع الصدر، وجع الاضلاع کے لئے مخصوص ہے۔
دیگر اجزاء مع طریقۂ تیاری قرن الایّل کو برادہ کر کے شیر مدار میں تر کریں ، پھر اُسے خشک کریں۔ اِسی طرح تین مرتبہ تر کر کے خشک کریں اور مٹی کے کوزہ میں گلِ حکمت کر کے ۵ کلو اُپلوں کی آنچ دیں۔ پھر نکال کر بدستور شیر مدار میں تر و خشک کر کے ۵ کلو اُپلوں کی آنچ دیں۔ اِس طرح ۶ مرتبہ یہ عمل کریں۔ کشتہ تیار ہو جائے گا۔
مقدار خوراک ۱۲۵ تا ۲۵۰ ملی گرام۔

کشتہ قلعی]

وجہ تسمیہ جزءِ خاص قلعی کی بناء پر اِس کا نام کشتہ قلعی دیا گیا۔
افعال و خواص اور محل استعمال کشتہ قلعی امراضِ مثانہ کے لئے خاص طور پر نافع ہے۔ امراض آلات بول، گردہ و مثانہ میں بہترین کام کرتا ہے۔ ضعف باہ، جریان، سیلان الرَّحم، سوزاک اور ذیابیطس میں مفید ہے۔
دیگر اجزاء مع طریقۂ تیاری قلعی ایک حصہ، بھنگ ، ہلدی، پوست خشخاش ہر ایک چار حصہ، قلعی کو کڑاہی میں پگھلائیں اور دوسرے اجزاء باریک سفوف کر کے چٹکی چٹکی ڈالتے جائیں اور لوہے کی سیخ سے ہلاتے رہیں۔ آنچ اوسط درجے کی رہے تاکہ قلعی منجمد نہ ہونے پائے۔ سفوف شدہ دوائیں ختم ہونے پر قلعی راکھ ہو جائے گی۔ اِس راکھ کو شیرۂ گھی کوار میں تین گھنٹہ تک کھرل کر کے دس کلو اُپلوں کی آنچ دیں۔ بعد میں دہی کے پانی میں کھرل کر کے اِسی قدر آنچ دیں۔ زرد رنگ کا کشتہ تیار ہو جائے گا۔
مقدار خوراک ۱۲۵ تا ۲۵۰ ملی گرام ، مناسب بدرقہ کے ساتھ۔

کشتۂ گئو دَنتی (ہڑتال طبقی)[

افعال و خواص اور محل استعمال فالج، لقوہ ، خدر، تشنج بلغمی، وجع المفاصل، ضعف اعصاب، ضعف باہ، خواتین میں ولادت کے بعد کے بخاروں اور ہرقسم کے بخار میں مفید ہے۔
جز خاص گئو دنتی۔
دیگر اجزاء مع طریقۂ تیاری گئو دنتی ۵۰ گرام ، نیم کوب کر کے مٹی کے کوزہ میں اوپر نیچے اسگند ناگوری ۵۰ گرام بچھا کر رکھیں۔ اوپر سے تھوڑا شیرۂ گھی کوار ڈال کر کوزہ کا منھ بند کر کے گلِ حکمت کریں اور بیس کلو اُپلوں کی آنچ دیں۔ سرد ہونے پر نکالیں۔ کشتہ تیار ہے۔
مقدار خوراک ۱۲۵ تا ۲۵۰ ملی گرام مختلف امراض کی رعایت سے مناسب بدرقہ کے ساتھ استعمال کرائیں۔

کشتۂ مثلّث]

وجہ تسمیہ قلعی، جست اور سیسہ تین اجزاء پر مشتمل ہونے کی وجہ سے یہ کشتہ مثلث کہلاتا ہے۔
افعال و خواص اور محل استعمال سُرعتِ انزال، جریان اور ضعف باہ کے لئے مخصوص ہے۔
دیگر اجزاء مع طریقۂ تیاری قلعی، جست،سیسہ ہر ایک ۱۰ گرام ،تینوں کو چھوٹی کڑاہی میں پگھلائیں اور سات مرتبہ روغن گاؤ میں بجھائیں۔ اِس کے بعد پگھلا کر اُس میں پوست خشخاش کا سفوف ۲۵۰ گرام ایک ایک چٹکی ڈالتے جائیں اور لوہے کی سیخ سے ہلاتے رہیں۔ یہاں تک کہ خشخاش کا پورا سفوف ختم ہو جائے اور یہ تینوں دوائیں راکھ ہو جائیں۔ اِس کے بعد راکھ کو ترش دہی میں تین گھنٹہ تک کھرل کر کے ٹکیہ بنا کر مٹی کے کوزہ میں بند کریں اور گل حکمت کر کے پندرہ کلو اُپلوں کی آنچ دیں۔ پھر اِسی طرح کھرل کر کے پانچ مرتبہ آنچ دیں۔ بسنتی رنگ کا کشتہ تیار ہوگا۔ حسب ضرورت استعمال میں لائیں
مقدار خوراک ۱۲۵ تا ۲۵۰ ملی گرام ،مناسب بدرقہ کے ساتھ۔

کشتۂ مرجان سادہ

وجہ تسمیہ اپنے جزءِ خاص مرجان کے نام سے سوموم ہے۔
افعال و خواص اور محل استعمال ضعف دِماغ، نزلہ زکام، سعال ، ضیق النفس، جریان اور ضعفِ اشتہا میں مفید ہے، مقوی قلب و دماغ ہے۔
دیگر اجزاء مع طریقۂ تیاری مرجان ۵۰ گرام چھوٹے چھوٹے ٹکڑے کر کے مصری ۱۰۰ گرام باریک نیچے اوپر بچھا کر مٹی کے کوزہ میں رکھیں اور گلِ حکمت کر کے ۱۰ کلو اُپلوں کی آنچ دیں۔ سرد ہونے پر کام میں لائیں۔ کشتہ تیار ہے۔
مقدار خوراک ۶۰ ملی گرام تا ۲۵۰ ملی گرام، مناسب بدرقہ کے ساتھ۔

کشتہ مرجان جواہر وال]

افعال و خواص اور محل استعمال مقوی قلب و دماغ و جگر ، ضعف دماغ میں خاص اثر رکھتا ہے۔ نزلہ مزمن میں تریاق صفت اور جریان میں مفید ہے۔
دیگر اجزاء مع طریقۂ تیاری مرجان دس گرام ،یاقوت ۳ گرام، عنبر، وَرق نقرہ ۳ گرام ،وَرق طِلاء ایک گرام، زمرد پانچ گرام۔ تمام ادویہ کو عرق کیوڑہ میں خوب کھرل کریں۔ اِس کے بعد ٹکیہ بنا کر مٹی کے کوزہ میں گل حکمت کر کے خشک ہونے پر دس کلو اُپلوں کی آنچ دیں اور کشتہ تیار کریں۔
مقدار خوراک ۳۰ تا ۶۰ ملی گرام ہمراہ خمیرۂ گاؤ زباں۔

کشتۂ مرگانگ

افعال و خواص اور محل استعمال قلت دم ، ضعفِ ہضم اور جریان میں مفید ہے۔
دیگر اجزاء مع طریقۂ تیاری گندھکِ اَملسار، نوشادر،قلعی ، پارہ ہم وزن لے کر رانگ اور پارہ کو عقد کریں۔ اس کے بعد آتشی شیشی میں ڈال کر گل حکمت کر کے آنچ پر رکھیں۔ شیشی کے منھ میں سیخ چلاتے رہیں تاکہ منھ بند نہ ہو ، لیکن یہ خیال رہے کہ سیخ دوا میں نہ لگنے پائے، جب زرد دھواں نکلنے لگے تو آگ سے اُتار لںق اور سرد ہونے پر شیشی سے نکال کر حفاظت سے رکھ لیں اور استعمال میں لائیں۔
مقدار خوراک ۳۰ ملی گرام۔

کشتہ ہڑتال طبقی

افعال و خواص اور محل استعمال ضیق النفس ، سعال مزمن اور امراض بارِدہ میں مفید ہے۔
دیگر اجزاء مع طریقۂ تیاری ہڑتال طبقی دس گرام کو چار روز تک متواتر شیر مدار میں کھرل کر کے قرص بنا کر خشک کریں۔ پھر دو کچی اینٹوں میں گڑھا کھود کر وہ قرص رکھیں اور اینٹوں کو ایک دوسرے سے پیوست کر کے اچھی طرح گل حکمت کریں اور خشک ہونے کے بعد تین کلو اُپلوں کی آنچ دیں۔
مقدار خوراک ۱۲۵ ملی گرام۔

کشتہ ہیرا کسیس(زاج اخضر)

وجہ تسمیہ اپنے جز ء خاص کے نام سے موسوم ہے۔
افعال و خواص اور محل استعمال مولِّد دم ، بدن کی عام کمزوری کو رفع کرتا ہے۔ خارش، برص، سیلان الرَّحم اور حمیات مزمنہ میں مفید ہے۔ نافع عِظم طحال ، عسرالبول و عسر طمث۔
دیگر اجزاء مع طریقۂ تیاری ہیرا کسیس کو گھی کوار ، کٹائی خرد اور ستیا ناسی کے رس میں بالترتیب تین دِن تک سحق کریں۔ خشک ہو جانے پر تین چار یوم تک تیز ترش دہی میں ڈالے رکھیں۔ گاڑھا ہونے پر پھر سحق کریں اور ۱۰۔۱۰ گرام کی ٹکیاں بنا کر سُکھائیں ، پھر بھنگرہ کے سفوف کے درمیان ٹکیوں کو رکھ کر ’’گج پٹ‘‘ کی آنچ دیں اور سرد ہونے پر نکال کر استعمال کریں۔
مقدار خوراک ۱۲۵ ملی گرام تا ۲۵۰ ملی گرام ہمراہ مکھن یا بالائی۔

حوالہ جات

  1. ^ کشتہ
  2. ^ دستور المرکبات

No comments:

Post a Comment